جھوٹ اور جذبات

آپ میں سے کچھ لوگ اس عنوان کا نام پڑھ کر سوچ رہیں ہوں گے کہ جھوٹ کے ساتھ جذبات کیوں؟
اور کچھ لوگ شاید سمجھ بھی گئے ہوں گے کہ اسکا مطلب کیا ہے!!!

تو میں پہلے اسکی چھوٹی سی تعریف بتا دیتی ہوں جو میں خود سوچتی ہوں میرے خود کے الفاظ ہی سمجھ لیجئے: جذبات آپکے اندر کی ایک کیفیت ہے (جیسا کے سب جانتے) جب ہم اس کیفیت میں جھوٹ کو سنتے ہیں تو ہمہیں تکلیف ہوتی ہے وہ تکلیف ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہے اس لیے جھوٹ کے ساتھ جذبات آیا ہے۔
 
ہمارے جذبات

ہم سب کے جذبات ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں ہم میں سے کچھ مضبوط ہوتے ہیں تو کچھ بہت کمزور، کچھ جذبات پر قابو پا لیتے تو کچھ خود کو کھو دیتے ہیں۔
یہ کہنا نا مناسب ہو گا کہ جذبات کو سمبھالو! ہر کوئی کہتا ہے لیکن جذبات پر قابو پانا اتنا آسان نہیں جتنا کہہ دینا آسان ہے۔ خوشی ہو یا غم ان سب میں جذبات شامل ہیں گھر میں کسی کا جنم دن ہے یا کوئی بچھڑ گیا ہےاس میں بھی جذبات ہی شامل ہیں۔ لیکن کتنی عجیب بات ہے ہم جذبات کو سمجھتے سمجھتے زندگی کے آخری لمحے تک پہنچ جاتے ہیں جبکہ یہ ہمارے ارد گرد ہی ہوتے ہیں۔یہ ہیں جذبات جسکو ہم برسوں سے سمجھنا چاہتے ہیں۔


جھوٹ

اب باری ہے جھوٹ کی، صرف چھوٹا سا لفظ "جھوٹ"۔لیکن اسکی حقیقت جانتے جانتے شاید سو برس بھی کم ہوں۔

یہ جھوٹ کیا کچھ نہیں کروا دیتا، مختصر کہوں تو زندگیاں خراب کر دیتا ہے۔ اسکی عمر بہت چھوٹی سی ہے۔
     کیوں کہ جھوٹ کے بعد کبھی نہ کبھی سچ سامنے آتا ہی ہے۔ بڑی بات تو یہ ہے کہ ایک ہی زبان سے جھوٹ اور سچ کہا جاتا ہے، لیکن بولنے والا انسان ہی الگ ہوتا ہے، کوئی جھوٹ کہتا ہے تو کوئی سچ۔ ایک جھوٹ وہ ہوتا ہے جس میں سچائی چھپی ہوتی ہے اور اسکو سچ والا جھوٹ بھی کہتے ہیں۔ جھوٹ سے فساد ہوتا ہے، ایک جھوٹ بولنے پر سو جھوٹ بولے جاتے ہیں۔ کبھی کسی کو پانے میں جھوٹ، کبھی کسی کا ہاتھ چھوڑنے پر جھوٹ تو کبھی کسی کو بچانے پر جھوٹ۔۔کتنا مشکل ہے اسکو سمجھنا۔

پتا ہے میں نے جھوٹ کے ساتھ جذبات کیوں رکھا؟

کیوں کہ سارا بوجھ ہی جذبات پر ہے چلیں ایک مثال دیتی ہوں:

          بہت عرصہ پہلے ایک بہت ہی پیاری اور معصوم سی لڑکی تھی یہ لڑکی ہر روز اس امید سے جیا کرتی تھی کے جو وہ چاہتی ہے وہ حاصل کرے گی، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا، شاید اسکا مقصد تھا کچھ بننے کا اور اسکے کچھ چاہنے والے اور نہ چاہنے والے اسکو اسی امید میں حوصلہ دیتے تھے کے ہاں تم بن جاؤ گی،  جو تم چاہتی ہو۔ وہ جھوٹا دلاسا تھا حقیقت تو کچھ اور ہی تھی، کچھ بننے کا یہ جو خیال تھا یہ اسکے جذبات تھے اور وہ جو دوسرے کہتے تھے بن جاؤ گی جھوٹے دلاسے یہ انکا جھوٹ تھا اگر چاھتے تو سچ بھی کہہ سکتے تھے کہ وہ لڑکی نہیں بن سکتی جو وہ چاہتی ہے۔
 مسئلہ کیا تھا کے وہ اپنا خواب پورا نہیں کر سکتی تھی؟

مسئلہ سب پیسوں کا تھا، ہے نہ دکھ بھری بات کاش پہلے اس لڑکی کو سچ کہہ دیتے لیکن پہلے ایک جھوٹ پھر جھوٹ کے ساتھ سو جھوٹ۔

پھر کیا ہوا؟

جب وقت آیا کچھ خواب پورے کرنے کا تو سچ کہہ دیا کے پیسے نہیں خواب پورے کرنے کے لیے وہ لڑکی کے جذبات جانتے ہو کیا تھے!!!

ٹوٹ گئی تھی وہ یا جذبات ٹوٹ گئے تھے جھوٹ ہی تھا جس نے اسکو تکلیف دی دکھ دیا۔
اب سمجھے کے جذبات کے ساتھ جھوٹ ہی کیوں ۔۔۔کیوں کہ جذبات کا سب سے بڑا دکھ ہی جھوٹ ہے۔

امید کرتی ہوں میرا یہ عنوان آپ سب کو بہت پسند آے گا اور درخواست یہ ہے کے کبھی کسی سے جھوٹ نہ کہیں کیوں کے جذبات پر قابو پانا انتہائی مشکل ہے خاص کر جب جھوٹ بولا جائے۔

اور دوسری بات یہ کے کبھی کسی پر یقین بھی نہ کیا جائے، کب کوئی کہاں جذبات سے کھیل جائے پتا بھی نہیں چلتا۔

شکریہ!

Posted: 03 Mar 2021

Visit for more

Joined in Dec 2020


() ()

Misbah

عمدہ
() (1184 days, 19 minutes ago)

Hussnain

ایک لڑکا تھا، اسے اسکے چاہنے والے دلاسے دیا کرتے تھے کہ جو تم چاہتے ہو تمہیں مل جائے گا۔ اسے خود سے زیادہ ان دلاسوں پر یقین تھا۔ اسی یقین کے بھروسے وہ محنت کرتا رہا۔ أج وہ اللّٰه کے کرم سے بہت کچھ حاصل کر چکا ہے جو وہ کرنا چاہتا تھا اور وہ ابھی بھی اپنے چاہنے والوں کے دلاسوں کی وجہ سے محنت جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اپنے باقی بچے ہوئے خواب پورے کرے۔ اور وہ لڑکا میں ہوں۔ میں اس بات سے متفق ہوں کہ سب کے دلاسے سچے نہیں ہوتے لیکن کچھ دلاسے در حقیقت بہت فائدہ دے جاتے ہیں۔
() (1184 days, 18 minutes ago)

Misbah

Hussnain Ma Sha Allah
() (1183 days, 23 hours, 36 minutes ago)

Ayesha

Misbah thanks
() (1183 days, 22 hours, 28 minutes ago)

Ayesha

Hussnain bilkul sahi kaha
() (1183 days, 22 hours, 28 minutes ago)